ڈاکٹر ہیرالڈ کوئنگ کی ڈیوک یونیورسٹی سے کی گئی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ 'توکل' کا تصور شدید ڈپریشن اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر سے صحت یابی کے عمل کو 40% تک تیز کرتا ہے۔
مشکلات کے سامنے ایک روحانی لنگر: توکل
جدید نفسیات نے حالیہ برسوں میں 'مذہبی مقابلہ' (religious coping) کے میکانزم کو گہرائی سے جانچا ہے۔ توکل، فرد کی کوشش کے بعد نتائج کو الٰہی ارادے پر چھوڑ دینے کا نام ہے۔ سائنسی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ حالت دماغ کے 'لڑو یا بھاگو' کے میکانزم کو پرسکون کرتی ہے۔
ڈیوک یونیورسٹی کی تحقیق
ڈاکٹر ہیرالڈ جی کوئنگ (Dr. Harold G. Koenig) کی زیرِ نگرانی کلینیکل مشاہدات میں:
- بحران کا انتظام: توکل کا ایک مضبوط احساس کورٹیسول کی سطح کو تیزی سے معمول پر لاتا ہے۔
- ڈپریشن سے تحفظ: ایمان پر مبنی لچک خطرات کو کم کرتی ہے۔